حاملہ بیوی کے مقدمہ قتل میں شوہر کو موت کی سزا

ملتان (محمد ندیم قیصر)

ملتان کی سیشن عدالت نے حاملہ بیوی ثانیہ زہرا کے قتل کیس کے فیصلہ میں شوہر کو موت کی سزا سنادی ہے٬ ایڈیشنل سیشن جج محسن علی خان نے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے شوہر علی رضا کو سزائے موت کا حکم سنا دیا،مقتولہ کے دیور علی حیدر اور ساس عذرا پروین کو عمر قید کی سزا دی گئی۔
پولیس نے مرکزی ملزم علی رضا کو ہتھکڑیوں میں عدالت میں پیش کیا۔ کیس میں سسر جیون شاہ، نند دعا زہرہ اور سابقہ بیوی مدیحہ کو شواہد کی عدم موجودگی پر بری کر دیا گیا۔
استغاثہ کے مطابق مقتولہ ثانیہ زہرا کی پھندا لگی لاش 9 جولائی 2024ء کو نیو ملتان میں سسرالی گھر کے کمرے سے برآمد ہوئی تھی۔ تھانہ نیو ملتان میں شوہر علی رضا، دیور حیدر علی، ساس عذرا پروین سمیت 6 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ مقتولہ کے والد اسد عباس شاہ کی مدعیت میں قائم ہوا۔
کیس میں استغاثہ کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر میاں بلال نعیم نے دلائل دیئے، مدعی پارٹی کے وکلاء شہریار احسن اور میاں رضوان ستار نے حتمی دلائل مکمل کیے۔ ملزمان کے وکیل ضیاء الرحمان رندھاوا نے بھی اپنے دلائل پیش کیے۔
مقدمے میں مجموعی طور پر 49 سماعتیں ہوئیں۔ چالان 25 اپریل 2025ء کو عدالت میں جمع کروایا گیا جو پہلے مجسٹریٹ کورٹ، پھر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، اور بعد ازاں ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ کی عدالت میں منتقل ہوا، جہاں 28 سماعتیں ہوئیں۔
بعد ازاں کیس کو 29 ستمبر کو ایڈیشنل سیشن جج محسن علی خان کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا، جہاں 19 پیشیوں کے بعد آج 18 نومبر 2025 کو فیصلہ سنا دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں