ملتان (محمد ندیم قیصر)
ملتان ڈویژن میں قائم رجسٹریشن دفاتر کے سرکاری لاگ اِن آئی ڈی اور ریکارڈز کے غلط استعمال کی شکایات پر کمشنر ملتان ڈویژن نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ اس حوالے سے ایڈیشنل کمشنر (ریونیو) نے ڈپٹی کمشنر ملتان کو باضابطہ ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ سب رجسٹرار، تحصیلدار اور نائب تحصیلدار دفاتر کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کریں تاکہ کسی بھی نجی شخص یا وینڈر کو سرکاری لاگ اِن یا کمپیوٹر ریکارڈتک رسائی نہ مل سکے۔
سرکاری مراسلہ کے مطابق یہ شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ ملتان سٹی اور صدر کے سب رجسٹرار دفاتر میں لاگ اِن آئی ڈی بعض نجی افراد، وشیقہ نویسوں اور وینڈرز کے ذریعے استعمال کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں کرپشن، جعلی رجسٹریاں اور عوامی ریکارڈ کے غلط استعمال کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔مراسلہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس عمل سے نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ عام شہریوں کی زمینوں اور جائیدادوں کی معلومات بھی غیر مجاز ہاتھوں میں جا رہی ہیں، جس سے ریکارڈ میں ہیرا پھیری کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر تمام سب رجسٹرار٬ تحصیلدار اور نائب تحصیلداروں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کا نیا میکنزم تیار کریں اور کسی بھی نجی فرد کی مداخلت پر سخت کارروائی عمل میں لائیں۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ سرکاری لاگ اِن کا ناجائز استعمال ایک سنگین جرم ہے اور اس کو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا٬ ذرائع کے مطابق پہلے بھی متعدد بار سب رجسٹرارز کے تبادلے کروائے جا چکے ہیں تاکہ دفاتر میں کرپشن اور غیر شفاف سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ نئی ہدایات کے بعد اب رجسٹریشن کے تمام دفاتر میں سیکیورٹی پروٹوکول مزید سخت کرنے، دو مراحل پر تصدیق اور آن لائن ریکارڈ کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
سرکاری طور پر اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عوام کا اعتماد بحال کرنا اور رجسٹریشن کے عمل کو مکمل شفاف بنانا ہے تاکہ کسی بھی شہری کو اپنی زمین یا جائیداد کے متعلق کسی غیر قانونی کارروائی کا خدشہ نہ رہے۔




