ملتان (محمد ندیم قیصر)
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت یا خارج شدہ مقدمات کو ظاہر کرنا غیرقانونی قرار دے دیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم مقدمے میں واضح حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ (PRC) میں ایسے مقدمات کو ظاہر نہ کیا جائے جن میں متعلقہ فرد کو عدالت سے بری یا مقدمہ خارج ہو چکا ہو۔
یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ڈاکٹر عظمٰی حمید صدیقی کی درخواست پر سنایا٬ درخواست گزار نے بتایا کہ ان پر اور ان کے اہل خانہ پر FIR نمبر 570/2016 تھانہ اسلام پورہ، لاہور میں دھوکہ دہی، جعلسازی (دفعہ 420، 468، 471 تعزیراتِ پاکستان) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جب اس وقت وہ میڈیکل سٹوڈنٹ تھیں۔
درخواست گزار کے مطابق پولیس تفتیش کے بعد دفعہ 173 Cr.P.C. کے تحت رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی اور عدالت نے 31 جولائی 2017ء کو مقدمہ خارج کر کے بری کر دیا۔ اب درخواست گزار نے آسٹریلیا میں تعلیم کے حصول کے لیے پولیس ریکارڈ سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جس پر پرانے اور ختم شدہ مقدمے کا حوالہ موجود تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ جب کسی شخص کو عدالت باعزت بری کر چکی ہو یا مقدمہ ریاست نے واپس لے لیا ہو، تو پولیس کو یہ حق نہیں کہ وہ ایسے معاملات کو کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ظاہر کرے۔عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کو ایسا ریکارڈ فراہم کرنا، جس سے اس کی ساکھ متاثر ہو، غیرقانونی، غیرآئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔فیصلے میں پولیس کو آئندہ کے لیے پابند کیا گیا ہے کہ صرف ان ہی مقدمات کا ذکر PRC میں کیا جائے جو زیرِ سماعت ہوں یا جس میں سزا ہو چکی ہو۔ ختم شدہ، بریت یا عدم شمولیت والے مقدمات کا حوالہ دینا شہریوں کے لیے غیرمنصفانہ ہے۔
یہ فیصلہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح ہدایت ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، خاص طور پر تعلیم اور روزگار کے مواقع میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔




