ملتان (محمد ندیم قیصر )
جامعہ خیر المدارس ملتان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام خدماتِ تحفظِ مدارسِ دینیہ کنونشن منعقد کیا گیا جس میں جنوبی پنجاب کے مدارس و جامعات کے مہتممین اور ذمہ داران نے شرکت کی۔ کنونشن میں کہا گیا کہ مدارس کے خلاف ہتھکنڈے بند کریں ورنہ اسلام آباد کا رخ کرلیں گے ۔
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیر اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کے لئے پنجاب والے اٹھیں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے ہم سڑکوں پر آکر اسلام آباد کی طرف رخ کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کا رویہ دراصل بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانا ہے۔ لیکن وفاق المدارس اور جمعیت علمائے اسلام نے نوجوانوں کو امن و استحکام کا پیغام دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بیرونی طاقتیں ان اداروں سے خائف ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق اسلام مملکتِ پاکستان کا سرکاری مذہب ہے اور کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا، لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر آج تک قانون سازی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ قوتیں ملک میں ایسے ماہرینِ شریعت نہیں دیکھنا چاہتیں جو شریعت کے مطابق قانون سازی کر سکیں۔انہوں نے حقوقِ نسواں، نکاح کی عمر، گھریلو تشدد، اور وقف قوانین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بیرونی دباو ¿ کے نتیجے میں بنائے جا رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت پنجاب کے آئمہ کرام کے لیے اعلان کردہ 25 ہزار روپے ماہانہ وظیفے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ رقوم ضمیر خریدنے کی کوشش ہے۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے سعودی عرب سے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا، یہاں ایسا نظامِ تعلیم نافذ ہونا چاہیے تھا جس میں ہر مسلمان دین کی بنیادی تعلیم حاصل کرے۔ افسوس کہ موجودہ نظامِ تعلیم سے وہ علم حاصل نہیں ہوتا جو فرضِ عین ہے۔ دینی مدارس نے بغیر کسی سرکاری امداد کے یہ فریضہ ادا کیا، لیکن بدقسمتی سے انہیں ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اکثر وہ لوگ جو کبھی کسی مدرسے کے قریب تک نہیں گئے۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ اور جامعہ خیر المدارس کے مہتمم مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ وفاق المدارس کی بنیاد 1959ء میں اسی جامعہ خیر المدارس میں رکھی گئی تھی۔ یہ ادارہ آج دنیا کا سب سے بڑا دینی تعلیمی نیٹ ورک ہے، جس سے 27 ہزار مدارس و جامعات وابستہ ہیں جن میں 30 لاکھ طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس کو کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی کیونکہ اس کی بنیاد ان ہستیوں نے رکھی جن کے اخلاص پر اخلاص بھی فخر کرے۔انہوں نے کہا کہ “ہم دین اور پاکستان کے چوکیدار ہیں، نظریہ پاکستان کے دشمن ہمارے دشمن ہیں مولانا جالندھری نے واضح کیا کہ مدارس کے خلاف پروپیگنڈا غلط ہے۔ دینی مدارس نے ہمیشہ ریاست کے ساتھ وفاداری نبھائی انہوں نے کہا کہ “ہماری رجسٹریشن کا مسئلہ محض انتظامی نہیں بلکہ خودمختاری کا مسئلہ ہے۔ ہم سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن اس لیے چاہتے ہیں تاکہ مدارس کی آزاد حیثیت برقرار رہے۔
مولانا حنیف جالندھری نے مزید کہا کہ دینی مدارس کا تحفظ، دراصل اسلامی تہذیب و تمدن اور آئینِ پاکستان کا تحفظ ہے ہم نے ہمیشہ مفاہمت کا راستہ اختیار کیا ہے، مگر اب ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے ملک کو داخلی انتشار میں مبتلا کرنا دشمن کی سازش ہے انہوں نے سپہ سالار جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اپنی صفوں سے ایسے عناصر کو نکالا جائے جو ریاست اور دینی طبقے میں دوری پیدا کرنا چاہتے ہیں
مولانا زبیر احمد صدیقی ٬وفاق المدارس العربیہ پاکستان صوبہ پنجاب کے ناظمِ اعلیٰ مولانا زبیر احمد صدیقی نے کہا کہ علمائے کرام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ریاست کا ساتھ دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف فتویٰ بھی علما نے دیا اور ہر موقع پر ملک کے دفاع میں کردار ادا کیا انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مدارس کو محکمہ تعلیم کے تحت زبردستی رجسٹر کرنے کا مطالبہ آئینی ترامیم کے منافی ہے، ہم اس حکومتی جبر کو مسترد کرتے ہیں ۔
کنونشن سے جامعہ خیر المدارس کے ناظمِ تعلیمات مولانا شمشاد احمد، مولانا اسد محمود، مفتی عامر محمود، وفاق المدارس سرگودھا کے مفتی طاہر مسعود، قاری عزیز الرحمن رحیمی (فیصل آباد)، مولانا حبیب اللہ (جھنگ)، مفتی عبدالرحمن (ناظم وفاق، پنجاب)، مولانا حبیب الرحمن درخواستی، مولانا لطف اللہ لدھیانوی، نے بھی خطاب کیا آخر میں اعلامیہ پیش کیا گیا جس میں دینی مدارس کی دینی، ملی اور رفاہی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ٬ مولانا فضل الرحمان اور قاری حنیف جالندھری کا خطاب میں مختلف قراردادیں بھی منظور کی گئیں جو مفتی حامد حسن، مولانا حبیب الرحمن اور مولانا عمر فاروق عباسی نے پیش کیں۔




